سعادت حسن منٹو
۔رنڈی
کسی انتقامی جذبے کے زیرِ اثر مردوں کے
مال و زر پر ہاتھ نہیں ڈالتی، وہ سودہ کرتی ہے اور کماتی ہے۔ مرد اپنی جسمانی
خواہشات کی تکمیل کامعاوضہ ادا کرتے ہیں
اور بس!!
۔رنڈی
اور باعصمت عورت کا مقابلہ ہرگز ہرگز نہیں کیا جاسکتا۔ رنڈی خود کماتی ہے اور
باعصمت عورت کے پاس کئی موجود ہوتے ہیں!!
۔
اگر رنڈی کسی مرد سے اُس کی دولت کی خاطر
نہیں بلکہ اس کی خاطر ملے تو ظاہر ہوجائے گا کہ اس میں رنڈی کی جیب
نہیں بلکہ اُس کا دِل کا رفرما ہے۔ جب دِل کار فرما ہو تو عشق کے جزبے کا پیدا ہونا لازمی ہے!!
۔ذرا
اُس طوائف کا صور کیجئے جس کا اس دنیا میں
کوئی بھی نہ ہو، نہ بھائی، نہ بہن، نہ ماں، نہ باپ اورنہ کوئی دوست، اپنے گاہکوں سے فراغت پا کر جب وہ کمرے
میں بالکل اکیلی رہ جاتی
ہوگی تو بس اس کے دل و دماغ کی کیا کیفیت ہوگی؟ یہ تاریکی اس اندھیرے میں
اور کتنی تاریک ہو جاتی ہوگی!!
۔چکلے
کی عورتوں کو کون نہیں جانتا۔ قریب قریب ہر شہر
میں ایک چکلہ موجود ہے۔ اگر ہم
مندروں اور مسجدوں کا ذکر کرسکتے ہیں تو
ان فحبہ خاتون کا ذکر کیوں نہیں کر
سکتے جہاں سے لوٹ کر مرد مندروں اور
مسجدوں کا رُخ کرتے ہیں۔
۔ اگر
طوائف کا مطلب میسےلیکر عزت کا سودا کرنا ہے تو پورا ملک ایک رنڈی کاکوٹھا ہے!!
۔رنڈی
جس کی ماں رنڈی تھی جس کی دادی رنڈی تھی
جس کی پردادی رنڈی تھی، جس نے رنڈی
دودھ پیا، جو عصمت فروشی کے گہوارے میں پلی، وہیں بڑی، عصمت اور باعصمت
عورتوں کے متعلق کیا سمجھ سکتی ہے۔
۔وہ
عورت جس کے پاس تن ڈھاپنےکے لیے چندچیتھڑے میسر ہوں ہرگز فحاش
قرار نہیں دی جاسکتی مگر کسی کلب کی وہ عورت یقیناً فحاش ہے جو نمائش کی خاطر اپنےبلاؤز میں سے چھاتیوں کو باہر جھانکنے کی
اجازت دیتی ہے!!
۔
یہ سب بھکاری جو سڑکوں پر کشکول بڑھائے
پھرتے دیتے ہیں، گولی مار کر اڑا دینے
چاہئیں ۔ جو بھیک مانگتے ہیں اتنے لعنتی نہیں جتنے کہ یہ لوگ جو دیتے ہیں۔ جنت کی ایک ٹھنڈی کوٹھری بُک کروانے وال سوداگر۔۔۔۔
۔دنیا
میں اتنے مصلح میدا ہوئے ہیں کہ ین کی
تعلیم تو لوگ بھول چکے ہیں۔ لیکن صلیبیں،دھاگے، داڑھیاں، کڑے اور بغلوں کے بال رہ
گئے ہیں!!
۔موت
ایک بہت ہی بھونڈی چیز ہے یعنی آپ اچھے بھلے جی رہے ہیں، ایک مرض کہیں آن
چمٹتا ہے اور آپ مر جاتے ہیں۔
۔چنگاری
کو شعلوں میں تبدیل کردینا آسان ہے۔مگر چنگاری پیدا کرنا بہت مشکل ہے!!
۔مختصر
الفاظ میں زندگی کے متعلق صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک آہ ہے ۔جو واہ میں لپیٹ
کرر پیش کی گئی ہے۔
۔
میں اُس معاشرے کا حصہ ہوں ہم آئنیے کا سامنا صرف شکل دیکھنے کے لیے کرتے ہیں۔
۔
سو میں سے سو مکھیاں شہد کی طرف بھاگی آئیں گی اور سے میں سے ننانوے لڑکیاں بھونڈے
پن سے مائل ہوگی۔