Sadaat Hassan manto Quotes | Truth about life and Women | 2 lines shayari

 سعادت حسن منٹو

 

عورتیں بڑی سخت دماغ کی ہوتی ہیں یوں تو انھیں صنف  نازک کہا جاتاہے مگر جب واسطہ پڑتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان  جیسی صنفِ کرخت دنیا کے تختے پر  نہیں۔

 

مرد کا دل عمرو عیار  کی زنبیل کی طرح ہوتا ہے ساری دنیا کی عورتیں بھی اس میں سما جائیں پھر بھی کچھ گنجائش باقی رہتی ہے۔

 

مرد کی قربت  بھی عورت کے حسن کے لیے  کتنی ضروری ہے۔

 

جسم داغا جا سکتا ہے مگر  روح نہیں داغی جاسکتی

 

میں وہ کپکپی ہوں جو ایک کنواری لڑکی کے جسم پر طاری ہوتی ہے جب وہ غربت سے تنگ آکر پہلی دفعہ ایوانِ گناہ کی طرف قدم بڑھانے لگے، آؤ ہم سب کانپیں۔

 

تم نے کبھی محبت کی ہو تو جانو محبت اداسی کا دوسرا نام ہے۔

 

افسانہ نگار اس وقت اپنا قلم اٹھا تا ہے، جب اس کے جذبات کو صدمہ  پہنچتا ہے۔

 

چور نے چینی کی بوری چرائی اور حادثاتی طور پر کنویں میں گرگیا۔ لاش نکالی گئی تو کنویں کا پانی میٹھا تھا، ساتھ ہی قبر پر چڑھاوےچڑھنے لگے اور کنویں کا پانی شفا بخش پایا۔

 

میرے شہر کے معززین کو میرے شہر کی طوائفوں سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا۔

 

آگ کے اندر  کودنے والے کو کھیل میں ہدایت دینے والے کی کیا ضرورت؟ پریم کی ارتھی  کو دوسرے کے کندھوں سے کیا سروکار؟ یہ لاش تو زندگی بھر ہمیں اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرنا ہوگی۔

 

یہ کیا بات ہے کہ بعض اوقات اچھی بھلی سے کو بگاڑنے سے  اس میں حسن  پیدا ہو جاتا ہے۔

 

منٹو نے  عورت  کی نفسیات اور فطری جذبات و ہمت پر بہت کچھ لکھا ہے اور عورت کے لیے ایک جملہ جو کہ انمول کہا:عورت کبھی بدصورت نہیں ہوتی۔

 

زندگی خود راستے  بناتی ہے راستے زندگی نہیں بناتے۔

 

تم محبت میں زندگی چاہتے ہو، میں زندگی میں محبت چاہتا ہوں۔

 

جس طرح بعض بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں اور کمزور رہتے ہیں، اسی طرح وہ محبت بھی کمزور رہتی ہے جو وقت سے پہلے جنم لے۔

 

جب حسن تھا تو آئنےنہیں تھے

اب آئنے ہیں پر حسن کہاں؟

 

ہر عادت پک کر طبیعت بن جاتی ہے اور یہ خوف ناک چیز ہے۔

 

اگر آپ کی زندگی  درد  کے احساس کے بغیر گزری ہے توشاید آپ اب تک پیدا ہی نہیں ہوئے ہیں۔

 

پہلے پہلے مرد جس عورت  کو اپنا نہیں سکتا تھا اس عورت کی صرف کردارکشی کی جاتی تھی پھرآہستہ آہستہ ہم  تہذیب یا فتہ ہوئے اور اب جو ہماری نہ بنے ہماس کا کردار بگاڑ دیتے ہیں یا چہرا، اسی لیے منٹو لکھ گیا ہے: پھنس جائے تو بندی ، نہ پھنسے تو رنڈی، تن اب بھی خوبصورت ہو یہ بھیانک چہرا تمہارا  نہیں ہمارے معاشرے کا ہے۔

 

ہر وہ چیز جو تم سے چرائی گئی تمہیں حق ہے اسے ہر ممکن طریقے سے اپنے قبضے میں لے آؤ۔ پر  یاد رہے   تمہاری کوشش کامیاب ہونی چاہیے۔

 

عورت جب  رو رہی  ہو تو  بہت حسین ہو جاتی ہے اس کے آنسو شبنم کے قطروں کی مانند ہوتے ہیں جو مرد کے جذبات کے پھولوں پر ٹپکتے ہیں جن سے اسے ایسی راحت فرحت ملتی ہے جو اور کسی وقت نصیب ہو سکتی۔

 

انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آہی جایا کرتے ہیں جو وہم و گمان مین بھی نہیں ہوتے ان کو  بسر کرنے کے لیے سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ ان کو گزر جانے دیا جائے۔

 

نرم و نازک روح کو اپنے سینے میں دبا کر تم زمانے کی پتھریلی زمین پر نہیں چل سکو گے جو پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹنا چاہے اسے پاگل خانے بند کر دینا چاہیے۔

 

بعض اوقات ایک انسان کی زندگی اس قدر تنگ اور غربت زدہ ہوتی ہے کہ وہ  بے مقصد  کسی معبوب چیز کو ہی  محبت کرنے لگ جاتا ہے اور اس پر زندہ رہنا چاہتا ہے۔ صاف لفظوں میں اکثر لوگ صرف دماغ کی بیماری کی وجہ سے گناہ کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔

 

محبت کرنے کے لیے کسی حد تک گھٹیا ہونا بہت ضروری ہے ورنہ جو لذت چاہیے ہوتی ہے نہیں مل پائے گی۔

 

وزنی معدے کے ساتھ جو شخص وطن کی خدمت کے لیے آگے  بڑھے اسے لات مار کر باہر نکال  دیجیئے۔

 

زندگی کیاہے؟ یہ بھی میری سمجھ میں نہیں آتا، میں سمجھا ہوں یہ اونی جراب ہے ، جس کے  دھاگے کا ایک سرا ہمارے ہاتھ میں دے دیا  گیا ہے۔ ہم اس کو ادھیڑتے رہتے ہیں ،جب ادھیڑتے ادھیڑتے دھاگے کا دوسرا سرا ہمارے ہاتھ میں آجائے گا تو یہ طلسم  جسے زندگی کہا جاتا ہے ٹوٹ جائے گا۔

 

بڑا دکھ ہوتا ہے  کہ مہذب دنیا دولت کی دلدل میں دھنس گئی ہے سائنس کی ترقی جاری ہری ہے، لیکن اخلاقی ذمہ داری کا احساس کم ہوتا چلا گیا ہے، نوع انسانی جہاں تھی وہیں کی وہیں کھڑی ہے اور نسلی امتیاز اورمذہبی عداوت بڑھتی گئی۔

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post